مرکز

در حال بارگیری...
در مجموع « 336 » مورد یافت شد.

انداز گریہ

آقا بہجت جیسے شخص کے ساتھ تعلق اور دوستی انسان میں بعض اوقات عجیب کیفیت پیدا کر دیتی ہے مثلا خدا کے حضور ان کی گریہ و زاری  کو دیکھیں یعنی سجدہ کی حالت میں وہ بے تحاشا گریہ و زاری کرتے تھے اور تڑپ رہے ہوتے تھے تو ایک عجیب احساس پیدا ہوتا ہے کہ خدا ناخواستہ کیا ان سے کوئی فعل شنیع سر زد ہوا ہے یا وہ ...

مقدس وجود

یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ کسی اہل علم کے دوست دار ہوں اور رموز علمی سے آشنائی نہ رکھتے ہوں اور ان کے ساتھ شرف ہم کلامی نہ ہو سکے آقا بہجت کے ساتھ دوستی کا تعلق بھی ایک منفرد انداز کا ہوتا ہے ان بزرگوں کا وجود حرم کی طرح مقدس و با برکت ہوتا ہے۔ کیونکہ اہلبیت اطہار (علیہم السلام) کے ساتھ ان کا کامل رابطہ ...

تم کہاں ہو

آقا بہجت کے شیرین سوالات میں سے ایک سوال میرے نزدیک بے حد شیرین ہے جس کی حلاوت اور پر لطف کیفیت میں آج تک محسوس کر رہا ہوں اور یہ خیال کرتا ہوں کہ میں شاید ان کا حق رفاقت ادا نہیں کر سکا۔...

اسے بھی قتل کرنا چاہتے ہو

وہ لوگ جو سالہا سال آقا بہجت کے پاس بیٹھتے رہے اور انہیں نہ پہچان سکے وہ اپنے امام زمانہ کو کیسے پہچانیں گے ظہور امام کی بحث میں یہ نقطہ اہم ہے کہ پہلے لوگوں میں یہ صلاحیت پیدا ہو کہ وہ امام (علیہ السلام) کو پہچان سکیں...

مجھے چھوڑو

پہلی مرتبہ جب میں آیت اللہ بہجت کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے فرمایا مجھے چھوڑو اور ان علماء کے پاس چلے جائو جو خود بھی روشن کردار ہیں اور دوسروں کو بھی اپنی روشنی سے منور کرتے ہیں میں تو آخر الزمان کے ان علمائے سوء میں سے ہوں جن سے بچنے کی ہدایت کی گئی میں نہیں سمجھ سکا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں وہ ...

دست وترنج

آیت اللہ بہجت کے بارے میں کچھ لکھنا کار دشوار ہے اس وقت جب کہ میں قلم اٹھا کر لکھنے کی فکر میں ہوں کہ مجھے مشکل پیش آرہی ہے میرا دل پکار اٹھتا ہے کہ تم کیا لکھ سکتے ہو کیوں کہ ہونا تو وہی ہے جو وہ خود چاہتے ہیں اس طرح کئی بار کوشش کی مگر کسی نتیجے تک نہیں پہنچا ایک دفعہ مجازستان کو خط لکھا کہ آیت ال...

ٹھیک ہو جائے گا

اوائل ایام میں ،میں حضرت آیت اللہ بہجت کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ میں کیا کروں کچھ سمجھ نہیں آتا فرمایا کیا ہوا ہے عرض کی کہ نماز شب پر میں قطعی موفق نہیں ہو رہا آخر کیا کروں فرمایا سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا ان الفاظ نے میرے پریشان دل و دماغ کو بالکل ٹھنڈا اور پر سکون کر دیا اور میں مطمئن ہو گی...

مجھے کیا دو گے

ایک شخص آقا بہجت کی خدمت میں آیا اور ان سے نصیحت طلب ہوا فرمایا کتاب معراج السعادة لاو اور اس کا صرف ایک صفحہ روزانہ پڑھا کرو اور اس پر عمل کیا کرو ایک صفحہ سے زیادہ ہرگز نہیں اس شخص نے معراج السعادة حاصل کی اور اس کا ایک صفحہ روزانہ پڑھنا شروع کر دیا جہاں کہیں مشکل پیش آتی آقا کی خدمت میں آکر وضاحت...

ان کا راستہ توبہ و توسل تھا

آنے والے کچھ لوگوں کی طرف آقا بہجت کوئی توجہ نہ دیتے اور نہ رہنمائی کرتے میں نہیں جانتا وہ اس طرح کیوں کرتے تھے شاید وہ اسی طرح مامور تھے آپ کسی سودے کی تلاش میں کسی دکان پر جائیں اور وہاں سے نہ ملے تو لازما دوسری دکان کا رخ کریں گے۔...

اپنے بارے میں بڑے سخت تھے

مسائل زندگانی میں اپنے بارے میں آقا بہت سخت تھے اور اسی طرح دینی معاملات میں بھی حد درجہ احتیاط سے کام لیتے تھے لیکن جملہ مسائل کے فتاوی میں ان کی روش بڑی آسان تھی مثلا خمس کے باب میں وہ جتنی آسانی دیتے تھے وہ میں نے کسی مجتہد میں نہیں دیکھی مثال کے طور پر جس کے پاس ایک گھر ہوتا یا ایک گاڑی ہوتی اس ...

بارش ہے اندرآجاو

دائمی نصیحت
خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ میں سن ٦٠ شمسی میں حوزہ علمیہ قم میں آ گیا اور مدرسہ حقانیہ میں سکونت رکھی حضرت آیت اللہ بہجت کی نماز کی خصوصیات کے بارے میں سنا تو شرکت کا شوق پیدا ہوا اور پوری بھاگ دوڑ کے ساتھ ان کی نماز میں شریک ہونے لگا پہلے ہمارا خیال تھا کہ وہ صرف شب جمعہ کی نماز پڑھاتے ہیں ان کی نماز ...

مشورہ کرنا

ایک زمانے میں ،میں بہت زیادہ استخارے کرتا تھا انہوں نے فرمایا کہ استخارے کی بجائے مشورہ لیا کر مجھے یاد ہے کہ ایک بار میں نے ان سے سوال کیا تو انہوں نے کوئی جواب نہ دیا میں اس وقت روحانی لباس میں نہیں تھا میں ان کے گھر گیا اور مجھے فرمایا اول و آخر صرف یہی بات انہوں نے مجھ سے کہی پھر وہ اندر چلے گئے...

سب سے بڑی کرامت

ان سالوں میں ،میں نے جو محسوس کیا وہ یہ تھا کہ آقا بہجت عجیب و غریب اور پر اسرار شخصیت کے مالک تھے با کرامت ہونے کے باوجود اگر وہ کسی پر اپنی کوئی کرامت ظاہر نہ کرنا چاہتے تو وہ اس پر قدرت رکھتے تھے اور استاد تھے ایک شخص جو صاحب مراقبہ و عرفان سمجھے جاتے تھے اور آیت بہجت کے ہاں بڑی آمد و رفت رکھتے ت...

حساب و کتاب

حضرت آیت اللہ بہجت ان لوگوں میں سے تھے جن کی خصوصیت ہے کہ جو زبان کی بجائے عمل سے لوگوں کی ہدایت کرتے ہیں وہ اپنی حرکات و سکنات کی طرف بہت متوجہ رہتے تھے اور ان کا حسب حال استعمال کرتے تھے ایک دفعہ ایک مجلس میں داخل ہوئے تو ایک صاحب نے اپنے پاس بیٹھنے پر اصرار کیا ان کے کہنے پر بیٹھ تو گئے مگر طبیعت...

شرط ارتباط

ہماری ہمیشہ یہ دلی خواہش رہی کے آقا بہجت ہمیں کچھ دستور دیں جس پر عمل پیرا ہو کر ہم خوشی حاصل کریں اور روحانی اطمینان و سکون پائیں  آقا بہجت نے اکثر و بیشتر مجھے جو ہدایت فرمائی وہ یہ تھی کہ معراج السعادة کا نصف صفحہ روزانہ غور سے پڑھا کرو اور اس پر عمل کیا کرو ہمارے ساتھ شرط و ارتباط یہی ہے ممکن ہے...

محبت خدا

جب میں مدرسہ حقانی میں داخل ہوا تو حصول علم میں مجھے ١٤؛١٥ سال گزر چکے تھے مجھے اپنے والدین اور خاندان کی محبت بہت پریشان کرتی تھی ان دنوں رابطے کے وسائل اتنے آسان نہ تھے کئی کئی گھنٹے فون کرنے کے لیے ایکسچینج میں انتظار کرنا پڑتا تھا اس طرح بڑی دقت و پریشانی ہوتی تھی ایک دفعہ میں نے حضرت آیت اللہ ب...

شرط بندگی

ایک بار حضرت معصومہ (علیها السلام) کے حرم مطہر جاتے ہوئے راستے میں فرمایا کہ درختوں کو دیکھ رہے ہو کہ ان کے دو حصے ہیں نچلی شاخیں مضبوط اور اپنے مقام پر جمی ہوئی ہیں  جبکہ بالائی اور اونچی شاخیں ہر وقت ہوا کے جھونکوں کے ساتھ حرکت کرتیں ہیں اور جھومتی رہتی ہیں انسان کو درخت کی بالائی شاخوں کی طرح ہون...

اہمیت استخارہ

ایک دفعہ میں نے مشہد مقدس جانے کا اردہ کیاتو آقاکی خدمت میں حاضر ہوا اور عر ض کی کہ آغا جان میں مشہد مقدس جانا چاہتا ہوں  فرمایا کیا استخارہ کر لیا ہے  میں نے کہا نہیں  فرمایا  انسان کو غیب کی باتوں کا کوئی علم نہیں ہوتا پیش بندی کیلئے استخارہ ضرورکرلیا کرووہ خود بھی استخارہ کے پابندتھے اوراکثراسکی ...

عالم محویت

آیة اللہ بہجت بچوں کیساتھ عموما بے تکلفی اورشوخی سے پیش آتے تھے اوراس وقت وہ کسی بھی سنجیدگی اوررعب وداب سے کام نہیں لیتے تھے   لیکن وہ جب باہرنکل کرروانہ ہوتے توان پرایک خاص ہیبت اوررعب وداب کاعالم ہوتاکوئی شخص ان سے سوال  اورگفتگوکی جرات  نہیں  کرپاتاتھااوروہ خودبھی نہیں چاہتے تھے کہ راہ چلتے ان ک...

طویل سکوت

جس زمانے میں وہ اپنے گھردرس دیتے تھے میں ان  کی کلاس میں حاضرہواتومیں نے ا نہیں شروع سے آخرتک سرجھکائے عالم محویت  میں   دیکھاجیسے وہ شاگردوں کی بجائے اپنے آپ کودرoس پڑہارہے ہوں بعض اوقات دوران درس وہ طویل سکوت فرمالیتے تھے انکاچہرہ بھی متغیرہوجاتاتھااہل فن کاکہناہوتاتھا کہ وہ فناء کامل کی حالت میں ...

روزوشب کی مصروفیت

صبح سے رات گئے تک ان کی مصروفیت کاایک مرتب پروگرام تھاجس پروہ ہمیشہ عمل پیرارہتے اوراس میں کسی قسم کادخل اورتبدیلی پسندنہیں کرتے تھے وہ اپنی مصروفیت کبھی ظاہرنہیں ہونے دیتے تھے اور نہ ان کایہ طریقہ تھا کہ وہ اسے کھلے الفاظ میں کسی کے سامنے بیان کریں کبھی تووہ ظاہرا  لوگوں پرتربیت کا ا  ثرڈالتے اورکب...

ایام خلوت

حضرت آیة اللہ بہجت کے ساتھ میری آشنائی دوحصوں میں منقسم ہے پہلاحصہ میرے ایام طالب علمی کاہے جبکہ میں محض اس حدتک ان سے آشناتھاکہ ان کی نمازوں میں شریک ہوتاتھا اور لوگوں کوان سے استخارہ کراتے ہوئے دیکھتاتھاآپ کی عادت تھی کہ نماز کے بعد محراب میں کھڑے ہو جاتے تھے اور لوگوں کے لئے استخارہ کرتے تھے وہ ع...

علمی غربت

ان دنوں ان کے اجتہاد کی شہرت توتھی مگروہ اتنے واضح انداز میں مشہورنہیں تھے مرجعیت سے پہلے توحوزہ میں بہت سے افرادان کے علمی مقام ومرتبے سے واقف نہیں تھے اوراعلان مرجعیت کے بعدان کے سیروسلوک کے مدارج نے اتنی چکاچونک پیداکررکھی تھی کہ ان  کاپایہ علمی  اس چمک ودمک میں دہندلاکررھ گیااگرہم یہ کہیں کہ آیة...

سورج اورستارے

ہم اس سلسلے میں ان کی ذات کو سورج اورستاروں کی مثال کے ساتھ واضح کرسکتے ہیں جیسے دن کے وقت سورج کے  ساتھ ساتھ ستارےموجودتوہوتے ہیں مگراس کے نورکی کثرت کے سبب نظرنہیں آتے اسی طرح روحانی اورعرفانی میدان میں ان کی مثال سورج کی طرح ہےانکی موجودگی میں کوئی دوسراعلمی اورعرفانی ستارہ اپنی ضوء نہ دکھاتا . ا...

صاحب سبک واختراع

اگرہم یہ کہیں کہ ہم عصراورگزشتہ علماء سب ایک جیسے تھے اوریکساں  بزرگ وبرترتھے تویہ قرین قیاس نہیں ہوگااس بات کوثابت کرنے کیلئےہمیں بہت زیادہ تحقیقات اورآثارعلماء میں جستجوکی ضرورت ہوگی بہترہے کہ ہم اس دعوی میں نہ پڑیں بلکہ ہمیں اس حقیقت کی طرف متوجہ  ہوناچاہئے کہ حضرت آیة اللہ بہجت نے فقہ واصول میں ...

روایات پرانحصار

فقہی مباحث میں وہ روایات کے مفہوم ومطالب کی طرف زیادہ توجہ دیتے تھے تمام روایات کے عبارات ومفاہیم کوسامنے رکھ کران پرخوب  توجہ دیتے اوران کے مجموعی مفہوم سے جوحاصل ہوتااسے نتائج وفتاوی کی بنیادبنادیتے ممکن ہے کہ دوسرے بزرگواربھی اسی اصول کے مطابق عمل کرتے ہوں لیکن آقائے بہجت اس پرسختی سے کاربندرہے....

طلباپروری

ان کادرس خارج کچھ ایسے طریقے سے تھا کہ اس سے طلبا  پروری اوراجتہادپروری کارنگ جھلکتاتھاعمومااستاد ایک مسئلہ کو حل کرنے کے لیے طلبہ کے ساتھ قدم بہ قدم چلتے ہیں   اور یہ تاثر دیتے ہیں کہ استاد شاگردوں کے ساتھ ساتھ غور وفکر کر کے مسئلہ کے حل کی طرف بڑھ رہا ہے  آیت اللہ بہجت کا بھی یہی طریقہ تھا اس طریق...

اشتغال مستحبات

 وہ اپنے بارے میں کبھی کوئی بات نہیں کرتے تھے  ایک بار میں نے ان سے پوچھاکہ ایک طالبعلم کو مستحبات میں کس حد تک مشغول رہنا مناسب ہے  اور یہ وہ سوال ہے جو عمو ما ہر طا لبعلم کے ذہن میں رہتا ہے  تو انہوں نے ایک موثر معیار  بتایا کہ ایک طالبعلم سمجھ سکتا ہے کہ میں اتنی حد تک پڑھنے میں مشغول رہوں کہ میر...

خاص ہدایت

بیجا نہ ہو گا کہ میں پہلے ان کی اس شوخی کو بیان کر دوں کہ انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ تمہارا خاندانی تعارف کیا ہے  میں نے کہا عمومی۔۔۔ فرمایا کیا خصوصی نہیں ہو پھر میں نے عرض کی آغا جان مجھے کچھ نصیحت فرمائیں انہوں نے جو نصیحت مجھے فرمائی وہی عام طور پر دوسروں کو بھی فرمایا کرتے تھے اور لوگوں نے سن رکھ...

زیارت آئمہ طاہرین (علیهم السلام)

ماہ رمضان کے قریب آنے پر میں نے ان سے استدعا کی کہ آپ مجھے کوئی ہدایت فرمائیں فرمایا کتاب اقبال الاعمال کی طرف متوجہ رہو اور اس سے الگ نہ رہو میں ایک بار حرم میں ان کی خدمت میں حاضر ہواتو پھر خواہش کی کہ آغا زیارت کے بارے میں مجھے ہدایت فرمائیں. فرمایا  زیارات ماثورہ کہ جو اہلبیت  اطہار (علیهم السلا...

نماز میں حضور قلب

نماز میں حضور قلب کے بارے میں بہت سے لوگوں نے ان کی ہدایات کو اپنی کتابوں میں لکھا ہے جب میں نے اس بارے میں سوال کیا تو انہوں نے وہی فرمایا جو کتابوں میں تحریر ہے اور فرمایا کہ بحالت نماز حضور قلب کے لیے بڑی ہدایت یہ ہے کہ سہو کے بعد جونہی تمہیں یہ خیال آئے تو فورا حضور قلب پیدا کرو اور کوشش کرو کہ ...

عبودیت میں سنجیدگی

آیت اللہ بہجت کی سب سے بڑی خوبی بندگی خدا میں ان کا سنجیدہ ہونا ہے   اپنے مقصد زندگی میں وہ نہایت سنجیدہ تھے اور یہ بات ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ اگر ہم یہ جان لیں کہ ہمارا مقصد خلقت کیا ہے تو ہماری زندگی پوری طرح صحیح راستے پر آجائے گی اور اسے پوری طرح احساس ہو جائے گا کہ مجھے زندگی کا سرمایا کہاں اور...

کچھ اجنبی پہلو

ان کی شخصیت کے کچھ پہلو اجنبی سمجھے جاتے ہیں اور لوگ ان سے پوری طرح واقفیت نہیں رکھتے تھے اور بلا سمجھے بوجھے فیصلہ کر دیتے ہیں کہ وہ ان اہم باتوں سے خالی رہ کر دنیا سے چلے گئے . اور وہ پہلو ان کا سیاسی اور اجتماعی پہلو ہے لوگوں نے اپنے طور پر یہ سمجھ لیا کہ وہ ایک پرہیز گار ،عبادت گزار اور گوشہ گیر...

رشوت اور جاسوس

آخری چند ماہ کے دوران جب وہ کتاب جہاد پڑہا رہے تھے تو انہوں نے مشروطہ کے بارے میں ذکر کرتے ہوئے اس دور کے بڑے توجہ طلب اور مفید مطالب کو بیان فرمایا اور فرمایاکہ پوری تاریخ میں ہمیں دو چیزوں نے بڑا نقصان پہنچایا ہے ایک رشوت اور دوسرے جاسوس. مشروطہ سے قبل اور بعد بھی یہ دونوں عوامل ہمیں سخت نقصان پہن...

کثرت مطالعہ

انہیں تاریخ میں ید طولی حاصل تھا اور تاریخی واقعات کو مفصل بیان فرمایاکرتے تھے جس سے پتہ چلتا تھا کہ وہ اس سلسلہ میں بڑا عبور رکھتے ہیں  فلسفہ اور عرفان نظری کی طرف وہ کبھی براہ راست اشارہ نہیں کرتے تھے لیکن ان سالوں میں وہ بطور نادر بیان کر دیتے تھے جب ہم اس سلسلہ میں کوئی ایک آدھ جملہ بھی ان سے سن...

کچھ باتیں سیکھنے سے نہیں آتیں

وہی اول وقت نماز
سن١٣٥٤ شمسی میں ،میں ١٣سال کی عمرمیں قم آیاحضرت آیة اللہ بہجت سے میراتعارف نمازکے وسیلہ سے ہواوہ اپنے گھرکے ساتھ والی مسجد میں  نمازپڑہایاکرتے تھے جسے بعدمیں مسجد فاطمیہ کانام دیاگیااوران  کاقدیمی گھربھی اسی مسجدکے پہلومیں ہے ان کی نمازمیں اتنے روحانی ومعنوی اثرات تھے کہ جوایک باران کے ساتھ نمازپڑھ ...

سات یاآٹھ منٹ

سن٧١ شمسی سے ان کی رحلت سے تین چاردن پہلے تک میں مسلسل ا ن  کی خدمت میں حاضر ہوتارہا کیونکہ میں ان کے درس میں شرکت کیاکرتا تھااس طرح میری ان کے ساتھ روزانہ ملاقات ہوجاتی تھی اکثراوقات میری ملاقات ان کے  ساتھ صبح دم حرم مقدس سے گھرکی طرف جاتےہوئے ہوتی تھی....

اگرکچھ پاناچاہتے ہو

ایک بار میں  ایک علمی عقدہ لاینحل کاشکارہوگیااورحرم کی طرف چل دیاحرم جانے کے دوہی مقصدہوتے ہیں بغرض زیارت یابغرض حل مشکلات اگرآدمی حرم پہنچ کرآقائے بہجت جیسی شخصیت کوپالے انہیں سلام کرے اوروہ بغیرکسی استفسارکے کچھ ایساجملہ بول دیں جوعقدہ درونی کے حل کاسبب بن جائے تواس  وقت کی خوشی اورلطف بیان سے باہ...

غیرمرئی اثر

حضرت آیة اللہ بہجت سے میراتعارف ہواتواسوقت میری علمی صلاحیت کچھ کم نہیں تھی میں مختلف یونیورسٹیوں میں تدریس کی قابلیت رکھتاتھا  اور ١٥سال تک مختلف یونیورسٹیوں میں بحیثیت دینی مبلغ تبلیغات کرتا رہا   اورسات آٹھ سال تک مسلسل درس بھی دیتارہااور آخری سال سن ٧١ اور ٧٢ میں،میں دانشگا ہ شہید بہشتی میں تدری...

ہر شے پڑھنے سے نہیں ملتی

کچھ باتیں پڑھنے پڑھانے سے تعلق نہیں رکھتیں بلکہ ان کا تعلق دریافت کرنے اور سیکھنے سے ہوتا ہے قیام مشہد کے انہیں دنوں میں جو ایک بات مجھے ان کے بارے میں یاد آ رہی ہے وہ بہت اہم ہے  میں ایک دن حرم مقدس میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا انہیں حرم میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا تو داخلے کے دروازے کی سب سے یچلی سیڑھ...

تازہ ترین مضامین

پروفائلز