مرکز

در حال بارگیری...

آیت اللہ بہجت

ہر علم پر کامل گرفت تھی

حضرت آیت اللہ بہجت کی ایک خوبی یہ بھی تھی کہ انھوں نے ہرعلم کو کامل اور راسخ انداز میں حاصل کیا تھا علمِ لغت ہو یا علم ادبیات  اور اسی طرح باقی تمام علوم میں یدطولیٰ اور دست ِ کمال رکھتے تھے اور اسی کمال علمی کے سبب ان کی شخصیت بڑی جاذب تھی یہی وجہ ہے کہ ہم ان کی خدمت میں جب حاضر ہوتے تو کبھی انھیں ...

وہ نہیں کہتے تھے یہ میرا فتویٰ ہے

بعض اوقات حضرت آیت اللہ بہجت سوال کا فورا جواب نہیں دیتے تھے اور خاموشی اختیار کر لیتے تھے اس کا سبب ایک تو یہ تھا کہ وہ عرفانی سیر میں اس وقت مشغول ہوتے تھے اور دوسرا سبب یہ کہ وہ فتویٰ دینے میں بڑے محتاط تھے ایک بار ایک واقعہ بیان کیا کہ ایک شخص کچھ مسائل فقہی لے کر ایک عالم دین کے پاس آیا اور جوا...

نماز نے ان کے ساتھ کیا کر دیا

حضرت آیت اللہ بہجت کا طریقہ تھا کہ جب وہ درس شروع کرتے تو کبھی اپنے موضوع سے باہر نہیں جاتے تھے ساری گفتگو متعین موضوع سے وابستہ رہتی تھی صرف ایک بار  ایسا اتفاق ہوا مجھے یاد ہے کہ درس اصول کے دوران جب بحث اجزا میں مصروف ہوئے تو حدیث الصلواة معراج المومن اور الصلواة تنہی عن الفحشاء و المنکر کو پیش ک...

فاعل مختار

 ایک مرتبہ مدرسہ فیضیہ میں آیت اللہ بہجت سے ملاقات ہوئی تو انھوں نے فرمایا کہ ایک بار استاد نے شاگرد سے فرمایا جس کا نام مختار تھا کہ کتب علمیہ میں انسان کو فاعل مختار کہا گیا ہے کیا وہ مختار تم ہو اگر چہ بظاہر آیت اللہ بہجت کی شخصیت سے اس قسم کی شوخی بعید نظر آتی ہے لیکن وہ کبھی کبھی یہ شوخی فرما ل...

آیت اللہ بہجت کاخواب

میرے والد آیت اللہ بہجت  کے بہت معتقد تھے  اور آیت اللہ بہجت بھی ان  کے ہاں اکثر آمد و  رفت رکھتے تھے ایک بار آیت اللہ بہجت نے مجھ سے فرمایا کہ میں نے خو اب دیکھا حضرت آیت اللہ محسن حکیم فوت ہو گئے ہیں  اور حوزہ میں ایک ہفتہ  کے لئے تعطیل ہوگئی ہے صبح اٹھا تو پتہ چلا کہ آپ  کے والد آقا زنجانی فوت ہو...

مقام عبدیت

 آیت اللہ بہجت کی شخصیت  اور ان کی سیرت کی تمام خوبیوں کا خلاصہ ان کی عبدیت میں ہے یعنی وہ عبد خدا کہلانے حد درجہ پسند کرتے تھے اس میں شک نہیں کہ مقام عبدیت کو ئی معمولی مقام نہیں اللہ تعالیٰ نے برگزیدہ شخصیات کا تعارف ان  کے مقام عبدیت سے کرایا ہے  اور باقی تمام خوبیوں کا اظہار اسی مقام کا مرہون من...

علم کے ساتھ عمل

حضرت آیت اللہ بہجت جو کہ عرفان و سلوک میں مرحوم قاضی  کے شاگرد تھے ان  کے استاد نے اس میدان میں اپنے شاگردوں کی خاصی جمعیت چھوڑی ہے  اور انھوں نے اپنے شاگردوں کی عرفانی تربیت  کے لئے کچھ خاص طریقے وضع  کئے تھے حضرت آیت اللہ بہجت نے علمی و فقہی میدان میں تو اپنے بہت سے شاگرد چھوڑے ہیں  اور ان شاگردوں...

اپنے بارے میں خاموش

حضرت آیت اللہ بہجت کی زندگی کا ایک روشن پہلو یہ بھی ہے کہ وہ اپنے بارے میں خاصے محتاط اورمخفی کار تھے ان سے جب کبھی کوئی نصیحت طلب کرتا تو وہ اسے اس  کے سوال کا جواب بہت مختصر یا سوالیہ انداز میں دیتے تھے عام فہم جواب نہ دینے کی دو  وجوہات ہوسکتی ہیں یا تو وہ سوال کرنے والے کو اس قابل نہ سمجھتے تھے ...

راہ کمال کا قافلہ سالار خاندان

 عرفان و روحانیت کا راستہ طے کرنے  کے لئے خاندان اہلبیت(ع)سے محبت و عقیدت کا رابطہ رکھنا بنیادی شرط ہے  ہم اس میدان میں عالی رتبوں تک پہنچنے والے اشخاص کی زندگی  کے حالات دیکھتے ہیں تو ہمیں اس میدان کا ہر شاہسوار اسی خاندان عصمت سے وابستہ نظر آتا ہے بلکہ شناخت  دین  کے لئے بھی اس خاندان  کے ساتھ واب...

صاحب استقامت واستقلال شخصیت

مقام بندگی  کے دو حصے ہیں ایک کا تعلق ظاہر سے ہے ا ور دوسرے کا باطن سے ظاہری مقام بندگی  پر وہی فائز ہوسکتا ہے جو مکمل ایمان  کے ساتھ اپنی پوری زندگی کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت اورفرمانبرداری  کے لئے وقف کر دے  اور اپنے آپ کو  احکام شریعت کا پابند رکھے اللہ تعالی ٰکی خالص اطاعت اس  کے واجبات کی انجام د...

تازہ ترین مضامین

پروفائلز