مرکز

در حال بارگیری...

آیت اللہ بہجت

صاحب استقامت واستقلال شخصیت

مقام بندگی  کے دو حصے ہیں ایک کا تعلق ظاہر سے ہے ا ور دوسرے کا باطن سے ظاہری مقام بندگی  پر وہی فائز ہوسکتا ہے جو مکمل ایمان  کے ساتھ اپنی پوری زندگی کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت اورفرمانبرداری  کے لئے وقف کر دے  اور اپنے آپ کو  احکام شریعت کا پابند رکھے اللہ تعالی ٰکی خالص اطاعت اس  کے واجبات کی انجام د...

اظہار کشف و کرامات سے گر یز

  آیت اللہ بہجت اسرار توحید کو محفوظ رکھتے  اور اپنے بارے میں تو کسی بھی کشف و کرامت  کے اظہار سے  مانع تھے البتہ  بزرگان علماء کے کشف و کرامت کا اظہارکرتے رہتے تھے صرف ایسی کرامات کا ذکر فرماتے تھے جو ان  کے مقام علم و عمل کی بلندی کو نمایاں کرتے تھے وہ اپنے اساتذہ میں سے باالخصوص شیخ محمدحسین اصفہ...

عبادت سے تھکتے نہیں تھے

تمام علماء دین عبادت کی ادائیگی میں خاص ذوق و شوق و شفقت رکھتے ہیں اورکسی کا قدم ایک دوسرے سے پیچھے نہیں البتہ اس کی ادائیگی میں ان  کے درمیان ہمیں کچھ نہ کچھ فرق نظر آتا ہے  اس ضمن میں آیت اللہ بہجت کا ایک خاص مقام ہے  اور وہ دیگر عبادات  کے ساتھ نوافل،ادعیات ماثورہ،روزانہ زیارت عاشورا  اور مداومت ...

دریاسے چندقطرے

حضرت آیۃ اللہ شبیری زنجانی فرماتے ہیں کہ حضرت آیۃ اللہ بہجت اپنےعقیدے کے خلاف کسی صورت کلام کرنا گوارا نہیں کرتے تھے ابتداء جب ہم ان  کے درس میں شریک ہوئے تو وہ  آیۃ اللہ قاضی  کے شاگرد  کے طور پرمشہور تھے لیکن وہ فقہ و اصول میں آیۃ اللہ شیخ محمدحسین اصفہانی  کے شاگردبھی تھے ہم آیۃ اللہ اصفہانی  کے ...

بڑے منکسرالمزاج تھے

آیت اللہ شبیری فرماتے ہیں کہ ان ایام میں جب حضرت آیت اللہ بہجت، آیت اللہ شیخ محمد کاظم شیرازی کی شاگردی میں تھے میں نے آیت اللہ شیرازی سے مشہد مقدس میں ملاقات کی تو میں نے آیت اللہ شیرازی کو ان کا بڑا قدر دان پایا وہ فرماتے تھے کہ آیت اللہ بہجت  بڑی زحمت و توجہ  کے ساتھ حصول علم و عرفان میں مصروف ہی...

تازہ ترین مضامین

پروفائلز