مرکز

در حال بارگیری...

میموریل

مرکز عقیدت

آیۃ اللہ بہجت صاحب کرامت تھے اور دانش و بینش کے مالک تھے وہ اس حدیث کے مصداق تھے اتقوا فراسۃ المومن فانہ ینظر بنور اللہ مومن کی فراست سے ڈرو کیونکہ وہ خدا کے نور کی روشنی میں دیکھتا ہے بعض مسائل میں وہ بڑی پیش بینی سے کام لیتے تھے رہبر معظم بھی ان کے ساتھ بڑی عقیدت رکھتے اور بہت سے کاموں میں ان کیسا...

وہ بات یاد رکھتے تھے

 سن 1953ء میں حضرت آیت اللہ بہجت آقا بیگدلی کے ساتھ میرے والد مرحوم کی عیادت کے لئے تشریف لائے ان کے فرزند آقا علی جو صغیر  السن تھے ان  کے ہمراہ تھے  ہم نے میوہ جات و شیرینی  اور چائے پیش کی تو ہاتھ نہ بڑھایا میرے والد مرحوم نے پوچھا یہ صاحب زادہ کون ہے آقا بہجت نے جواب دیا یہ بچہ آپ کا ارادتمند ہے...

کیوں طی الارض نہیں کرتے

میں گرمیوں کے موسم میں ایک بار مشہد مقدس گیا اور حضرت آیت اللہ بہجت کی خدمت میں حاضر ہوا میں ان دنوں امام جمعہ تھا ان کی اقامت گاہ پر پہنچنے کے بعد اپنے حاضر ہونے کی اطلاع دی تو فرمایا میرے کمرے میں آنے دو میں ان کے کمرے میں گیا تو وہاں کچھ کالج کے اور کچھ حوزہ کے طالب علم بیٹھے ہوئے تھے مٹھائی رکھی...

بیداری میں بھی سن سکتے ہیں

ایک دفعہ میرے ایک نزدیکی دوست نے خواب دیکھا اور وہ چاہتے تھے کہ میں اس خواب کے بارے میں آقا بہجت سے گفتگو کروں ان کا کہنا تھا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک امام زادہ کی زیارت کے لئے گیا ہوں میں نے وہاں دو رکعت نماز پڑھی جب نماز میں،میں نے  سبحان ربی العظیم و بحمدہ کہا تو روضہ امام زادہ  کے در و دی...

آیت اللہ بہجت اپنے بیٹے کی زبانی

دلوں پرحکومت
وہ بچپن میں دوسرے بچوں سے ممتاز انداز رکھتے تھے بلوغ سے کئی سال پہلے ایک متقی اور مہذب عالم دین کی تربیت کے سبب وہ روحانی سلوک و صعود کے راستے پر چل پڑے تھے ان کی عمر بارہ سال تھی کہ مکتب سے فارغ ہو کر انہوں نے علوم حوزوی کی تحصیل شروع کردی تھی ابھی ١٤ سال کی عمر تک نہ پہنچے تھے کہ کربلا چلے گئے انہ...

سادگی پسندی

قم مقدس میں وارد ہونے کے ابتدائی ایام ہی سے مجھے ان کے ساتھ واقفیت کا شرف حاصل ہوا شروع شروع میں ہم چند لوگ شب جمعہ ان کے گھر میں اکٹھے ہوجاتے تھے اور ذکر و اذکار میں مشغول ہوتے تھے آقا بہجت خاص لطف و مہربانی کرتے ہوئے ہمارے ساتھ بیٹھ جاتے تھے اس طرح ایک بے مثل روحانی محفل قائم ہوجاتی یہاں تک کہ جب ...

قابل توجہ باتیں

وہ اپنے درس خارج فقہ میں عموما فرماتے کہ ہمارے استاد حضرت آیت اللہ محمد حسین اصفہانی نے یوں فرمایا حالانکہ وہ مرحوم آیت اللہ نائینی کے درس میں بھی شامل ہوئے تھے وہ بڑے حاضر جواب تھے خاص کر مسائل فقہی و مسائل کلامی میں انہیں ید طولی حاصل تھا خاص کر بحث ولایت امیر المو منین (علیہ السلام) میں وہ فوق ال...

عبادت اور مطالعہ

مرجعیت سے پہلے ان کی مشغولیت صرف مطالعہ و عبادت تک محدود تھی وہ جوانی کی عمر میں علمی لحاظ سے بڑے صاحب استعداد تھے اور آیت اللہ اصفہانی کے قابل شا گردوں میں ان کا شمار ہوتا تھا وہ اپنے مکان پر ایک مخصوص درس دیا کرتے تھے جو ان کے مطالعات کا نچوڑ تھا اور دوران بحث وہ علمی مشکلات کو بڑے عمدہ طریقے سے ح...

مسائل جدیدہ

آیت اللہ بہجت فرماتے تھے کہ ہم ریاضیات آیت اللہ خوانساری سے پڑھا کرتے تھے اس زمانے میں ریاضی کے جدید مسائل مصر کی الازہر یونیورسٹی سے آتے تھے اور وہاں پڑہائے جاتے تھے جب وہاں سے آئے ہوئے مسائل جدیدہ کو ہم پڑھتے تھے تو محسوس ہوتا تھا کہ ہم یہ سب مسائل اپنے استاد سے پہلے پڑھ چکے ہیں ریاضیات میں وہ بلا...

نہایت سادگی

آیت اللہ بہجت کا وجود طلباء اور حوزہ کے لئے بڑا غنیمت تھا اور متدین افراد کے لئے بڑا متائثر کن تھا قم آکر جو شخص بھی ان کی نماز میں شریک ہوتا یا کیفیت نماز کے بارے میں سنتا تو بڑا متائثر ہوتا تھا ہم پوری زندگی ان کے گھر میں ان کے پاس حاضر ہوتے رہے اور انہیں ہر حالت میں سادگی پسند پایا جبکہ وہ وطن ما...

تازہ ترین مضامین

پروفائلز