مرکز

در حال بارگیری...

عبادات

بارش ہے اندرآجاو

دائمی نصیحت
خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ میں سن ٦٠ شمسی میں حوزہ علمیہ قم میں آ گیا اور مدرسہ حقانیہ میں سکونت رکھی حضرت آیت اللہ بہجت کی نماز کی خصوصیات کے بارے میں سنا تو شرکت کا شوق پیدا ہوا اور پوری بھاگ دوڑ کے ساتھ ان کی نماز میں شریک ہونے لگا پہلے ہمارا خیال تھا کہ وہ صرف شب جمعہ کی نماز پڑھاتے ہیں ان کی نماز ...

دست وترنج

آیت اللہ بہجت کے بارے میں کچھ لکھنا کار دشوار ہے اس وقت جب کہ میں قلم اٹھا کر لکھنے کی فکر میں ہوں کہ مجھے مشکل پیش آرہی ہے میرا دل پکار اٹھتا ہے کہ تم کیا لکھ سکتے ہو کیوں کہ ہونا تو وہی ہے جو وہ خود چاہتے ہیں اس طرح کئی بار کوشش کی مگر کسی نتیجے تک نہیں پہنچا ایک دفعہ مجازستان کو خط لکھا کہ آیت ال...

ٹھیک ہو جائے گا

اوائل ایام میں ،میں حضرت آیت اللہ بہجت کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ میں کیا کروں کچھ سمجھ نہیں آتا فرمایا کیا ہوا ہے عرض کی کہ نماز شب پر میں قطعی موفق نہیں ہو رہا آخر کیا کروں فرمایا سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا ان الفاظ نے میرے پریشان دل و دماغ کو بالکل ٹھنڈا اور پر سکون کر دیا اور میں مطمئن ہو گی...

مجھے کیا دو گے

ایک شخص آقا بہجت کی خدمت میں آیا اور ان سے نصیحت طلب ہوا فرمایا کتاب معراج السعادة لاو اور اس کا صرف ایک صفحہ روزانہ پڑھا کرو اور اس پر عمل کیا کرو ایک صفحہ سے زیادہ ہرگز نہیں اس شخص نے معراج السعادة حاصل کی اور اس کا ایک صفحہ روزانہ پڑھنا شروع کر دیا جہاں کہیں مشکل پیش آتی آقا کی خدمت میں آکر وضاحت...

ان کا راستہ توبہ و توسل تھا

آنے والے کچھ لوگوں کی طرف آقا بہجت کوئی توجہ نہ دیتے اور نہ رہنمائی کرتے میں نہیں جانتا وہ اس طرح کیوں کرتے تھے شاید وہ اسی طرح مامور تھے آپ کسی سودے کی تلاش میں کسی دکان پر جائیں اور وہاں سے نہ ملے تو لازما دوسری دکان کا رخ کریں گے۔...

اپنے بارے میں بڑے سخت تھے

مسائل زندگانی میں اپنے بارے میں آقا بہت سخت تھے اور اسی طرح دینی معاملات میں بھی حد درجہ احتیاط سے کام لیتے تھے لیکن جملہ مسائل کے فتاوی میں ان کی روش بڑی آسان تھی مثلا خمس کے باب میں وہ جتنی آسانی دیتے تھے وہ میں نے کسی مجتہد میں نہیں دیکھی مثال کے طور پر جس کے پاس ایک گھر ہوتا یا ایک گاڑی ہوتی اس ...

انداز گریہ

آقا بہجت جیسے شخص کے ساتھ تعلق اور دوستی انسان میں بعض اوقات عجیب کیفیت پیدا کر دیتی ہے مثلا خدا کے حضور ان کی گریہ و زاری  کو دیکھیں یعنی سجدہ کی حالت میں وہ بے تحاشا گریہ و زاری کرتے تھے اور تڑپ رہے ہوتے تھے تو ایک عجیب احساس پیدا ہوتا ہے کہ خدا ناخواستہ کیا ان سے کوئی فعل شنیع سر زد ہوا ہے یا وہ ...

وہ بات یاد رکھتے تھے

سن ۱۹۵۳م میں حضرت آیت اللہ بہجت آقا بیگدلی کیساتھ میرے والد مرحوم کی عیادت کے لیے تشریف لائے ان کے فرزند آقا علی جو صغیر السن تھے ان کے ہمراہ تھے ہم نے میوہ جات و شیرینی اور چائے پیش کی تو ہاتھ نہ بڑھایا میرے والد مرحوم نے پوچھا یہ صاحب زادہ کون ہے آقا بہجت نے جواب دیا یہ بچہ آپ کا ارادتمند ہے میرے ...

آیت اللہ بہجت اپنے بیٹے کی زبانی

دلوں پرحکومت
وہ بچپن میں دوسرے بچوں سے ممتاز انداز رکھتے تھے بلوغ سے کئی سال پہلے ایک متقی اور مہذب عالم دین کی تربیت کے سبب وہ روحانی سلوک و صعود کے راستے پر چل پڑے تھے ان کی عمر بارہ سال تھی کہ مکتب سے فارغ ہو کر انہوں نے علوم حوزوی کی تحصیل شروع کردی تھی ابھی ١٤ سال کی عمر تک نہ پہنچے تھے کہ کربلا چلے گئے انہ...

تازہ ترین مضامین

پروفائلز