مرکز

در حال بارگیری...
توضیح المسائل

رھن(گروی)

رھن یہ ہے کہ مقروض اپنے مال کا کچھ حصہ گراو کے طور پر طلب کار کے پاس رکھے کہ اگر وہ قرض ادا نہ کرے تو طلب کار اس کے مال میں سے اپنا حق لے لے ۔

(۵۱۰) گروی لینے والے اور گروی رکھنے والے دونوں کیلئے بالغ و عاقل ہونا ضروری ہے اور انہیں کسی نے نجبور بھی نہ کی اہو نیز گروی رکھنے والا سفیہ بھی نہ ہو اسی طرح وہ شخص جسے حاکم شرع نے کسی وجہ سے اپنے مال میں تصرف کرنے سے منع کیا ہو جیسے دیوالیہ اپنے مال کو گرو نہین رکھ سکتا لیکن بچے اور دیوانے کا ولی ان کی طرف سے گرو دے بھی سکتا ہے اور لے بھی سکتا ہے اور یہ اس صورت میں ہے جب اس میں ان کی مصلحت درکار ہو ۔

(۵۱۱) گرو لینے والا گرو دینے والے کی اجازت کے بغیر اس کے مال میں تصرف نہیں کر سکتا اور اگر حیوان پر سوار ہو کر یا مکان میں سکونت کرنے کی طرح کوئی کرے گا تو اس پر اس استفادہ کے عوض اجرۃ  المثل اد اکرنا لازم ہے اور اگر تصرف کرنے کی وجہ سے مال تلف ہو جائے تو اس کا ضامن ہو گا۔

(٥١٢) رہن گرولینے والے کے پاس امانت ہے کیونکہ گرودہندہ کی اجازت سے رکھاگیاہے  بنابریں اگر کسی قسم کی کوتاہی کے بغیر اس سے تلف ہوجائے تووہ ضامن نہیں ہے ۔

(٥١٣) اگرقرض کاوقت تمام ہوجائے اورمقروض طلبکارکے مطالبہ کے باوجوداپناقرض ادانہ کرے چنانچہ اگرطلبکارکومقروض کی طرف سے گروکی فروخت میں وکیل بنایاگیاہو تواسے فروخت کرسکتاہے اوراگر اس کی طرف سے وکیل نہ ہو توحاکم شرع کی طرف رجوع کرے گا اوروہ اپنی صوابدید کے مطابق اس کی فروخت کیلئے اقدام کرے گا ۔

نیا تبصرہ شامل کریں

سوالات اور تبصرے ای میل کے ذریعے بھیج info@bahjat.ir کرنے کی ضرورت ہے کے جواب میں.

تازہ ترین مضامین

پروفائلز