مرکز

در حال بارگیری...

عبادات

آیت اللہ بہجت اپنے بیٹے کی زبانی

دلوں پرحکومت
وہ بچپن میں دوسرے بچوں سے ممتاز انداز رکھتے تھے بلوغ سے کئی سال پہلے ایک متقی اور مہذب عالم دین کی تربیت کے سبب وہ روحانی سلوک و صعود کے راستے پر چل پڑے تھے ان کی عمر بارہ سال تھی کہ مکتب سے فارغ ہو کر انہوں نے علوم حوزوی کی تحصیل شروع کردی تھی ابھی ١٤ سال کی عمر تک نہ پہنچے تھے کہ کربلا چلے گئے انہ...

سادگی پسندی

قم مقدس میں وارد ہونے کے ابتدائی ایام ہی سے مجھے ان کے ساتھ واقفیت کا شرف حاصل ہوا شروع شروع میں ہم چند لوگ شب جمعہ ان کے گھر میں اکٹھے ہوجاتے تھے اور ذکر و اذکار میں مشغول ہوتے تھے آقا بہجت خاص لطف و مہربانی کرتے ہوئے ہمارے ساتھ بیٹھ جاتے تھے اس طرح ایک بے مثل روحانی محفل قائم ہوجاتی یہاں تک کہ جب ...

شاگردوں کی کثرت نہیں چاہتے تھے

آیت اللہ بہجت کی ایک سوچ یہ بھی تھی کہ ان کے درس  اور حلقہ اثر میں مخصوص اور با صلاحیت لوگ ہی شامل ہوں وہ ایسی کثرت کو ناپسند کرتے تھے جو ان کے پاس تو آئے مگر فکر و سوچ سے عاری ہو اس روش کے ساتھ وہ آہستہ آہستہ اپنے پاس بیٹھنے والوں اور اپنے شاگردوں کے دلوں میں ایک خاص علمی استعداد اور صلاحیت کار پید...

وہ ایک دوسرے سے واقف تھے

ایک بار آقا پہلوانی کے پاس ایک طالب علم سید زادہ تہران سے آیا آقا پہلوانی نے مجھے کہا کہ انھیں آقا بہجت کے پاس لے جاؤ  اس نے کہا  آقا بہجت کون ہیں آقا پہلوانی نے جواب دیا کہ وہ ایک پھول ہیں میں انھیں لے کر آقا بہجت کی خدمت میں حاضر ہوا تو نماز کا وقت تھا ہم دونوں نماز میں شامل ہو گئے  نماز کے بعد آق...

اگر ہم خود ٹھیک ہو جائیں

یہ آقا بہجت ہیں
 1959ء میں،میں حضرت آیت اللہ بہجت سے آشنا ہوا یہ پہلا سال تھا کہ میں آیت اللہ بر وجردی  کے درس میں جانے لگا تو وہیں ان سے آشنائی ہوئی میں نے شاگردان درس سے ایک گیلانی ملا کے بارے میں گفتگو سنی کہ سب اس کی تعریف کر تے تھے میں نے سوچا کہ وہ میرے ہم وطن ہیں مگر میں انھیں نہیں پہچانتا جب ان سے تعارف ہوا...

راہ کمال کا قافلہ سالار خاندان

 عرفان و روحانیت کا راستہ طے کرنے  کے لئے خاندان اہلبیت(ع)سے محبت و عقیدت کا رابطہ رکھنا بنیادی شرط ہے  ہم اس میدان میں عالی رتبوں تک پہنچنے والے اشخاص کی زندگی  کے حالات دیکھتے ہیں تو ہمیں اس میدان کا ہر شاہسوار اسی خاندان عصمت سے وابستہ نظر آتا ہے بلکہ شناخت  دین  کے لئے بھی اس خاندان  کے ساتھ واب...

صاحب استقامت واستقلال شخصیت

مقام بندگی  کے دو حصے ہیں ایک کا تعلق ظاہر سے ہے ا ور دوسرے کا باطن سے ظاہری مقام بندگی  پر وہی فائز ہوسکتا ہے جو مکمل ایمان  کے ساتھ اپنی پوری زندگی کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت اورفرمانبرداری  کے لئے وقف کر دے  اور اپنے آپ کو  احکام شریعت کا پابند رکھے اللہ تعالی ٰکی خالص اطاعت اس  کے واجبات کی انجام د...

اظہار کشف و کرامات سے گر یز

  آیت اللہ بہجت اسرار توحید کو محفوظ رکھتے  اور اپنے بارے میں تو کسی بھی کشف و کرامت  کے اظہار سے  مانع تھے البتہ  بزرگان علماء کے کشف و کرامت کا اظہارکرتے رہتے تھے صرف ایسی کرامات کا ذکر فرماتے تھے جو ان  کے مقام علم و عمل کی بلندی کو نمایاں کرتے تھے وہ اپنے اساتذہ میں سے باالخصوص شیخ محمدحسین اصفہ...

عبادت سے تھکتے نہیں تھے

تمام علماء دین عبادت کی ادائیگی میں خاص ذوق و شوق و شفقت رکھتے ہیں اورکسی کا قدم ایک دوسرے سے پیچھے نہیں البتہ اس کی ادائیگی میں ان  کے درمیان ہمیں کچھ نہ کچھ فرق نظر آتا ہے  اس ضمن میں آیت اللہ بہجت کا ایک خاص مقام ہے  اور وہ دیگر عبادات  کے ساتھ نوافل،ادعیات ماثورہ،روزانہ زیارت عاشورا  اور مداومت ...

تازہ ترین مضامین

پروفائلز