مرکز

در حال بارگیری...
توضیح المسائل

روزہ کی نیت

(٣٠١) روزہ کی نیت کودل میں دہرانایازبان پرجاری کرنالازم نہیں ہے مثلایہ ضروری نہیں ہے کہ کل روزہ رکھوں گا قربة الی اللہ کہے بلکہ خداوند عالم کے فرمان کی انجام دہی کی غرض سے صبح سے مغرب تک مبطلات روزہ سے پرہیزکرناہی کافی ہے .

(٣٠٢) ماہ مبارک رمضان میں اول شب سے صبح کی اذان تک جب بھی روزہ کی نیت کرے کوئی حرج نہیں ہے .

(٣٠٣) سنتی روزے کی نیت کاوقت اول شب سے لے کرمغرب سے اتنی دیرپہلے تک ہے جتنی دیر میں روزہ کی نیت کی جاسکتی ہےاوراگراس وقت تک مبطلات روزہ کوانجام نہ دیاہواورمستحبی روزے کی نیت کرلے تواسکاروزہ صحیح ہے .

(٣٠٤) اگرماہ رمضان کے روزہ کے علاوہ کوئی واجب روزہ رکھناچاہتاہوچنانچہ اگراس پرواجب ہونے والے روزے مختلف قسم کے ہوں توبنابراقوی اپنے روزے کومعین کرے مثلانیت کرے کہ قضاروزہ یانذ رکی وجہ سے واجب ہونے والاروزہ رکھتاہوں لیکن ماہ رمضان میں یہ نیت کرناکہ ماہ رمضان کاروزہ رکھتاہوں  لازم نہیں ہے بلکہ اگرماہ رمضان کونہ جاننے یافراموش کرنے کی بناپرکسی دوسرے روزہ کی نیت  سے روزہ رکھے تووہ ماہ رمضان کاروزہ شمارہوگا .

(٣٠٥) اگرایک بچہ ماہ رمضان میں صبح کی اذان سے پہلے بالغ ہوجائے تووہ روزہ رکھے گا اوراگراذان کے بعدظہرسے پہلے بالغ ہوجائے چنانچہ اگراس نے مبطلات روزہ کوانجام نہ دیاہوتواحتیاط واجب یہ ہے کہ بقیہ دن کاروزہ رکھے اوربعد میں اسکی قضا بھی بجالائے

(٣٠٦) میت کے روزوں  کیلئے اجیرہونے کے بعدمستحبی روزہ رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن قضاروزے کے ہوتے ہوئے انسان مستحبی روزہ نہیں رکھ سکتا .

(٣٠٧) اگرمریض ماہ مبارک رمضان میں ظہرسے پہلے صحت یاب ہوجائے اوراگراس وقت تک مبطلات روزہ میں سے کوئی عمل انجام نہ دیاہوتواس پرروزہ کاواجب اورصحیح ہوناخالی ازوجہ نہیں ہے 

(٣٠۸) اگرآخرشعبان یااول ماہ رمضان میں شک ہوتوقضایامستحبی روزہ کی نیت سے روزہ رکھے اوراگردن میں کسی وقت معلوم ہوجائےکہ یہ ماہ رمضان ہے رمضان کی نیت کرے گا .

تازہ ترین مضامین

پروفائلز