مرکز

در حال بارگیری...
توضیح المسائل

کاروبارکی منفعت

۱. کاروبارکی منفعت
(٣٤٢) اگرکوئی مال، تجارت وصنعت یاکسی دوسرے کاروبارکے ذریعے حاصل ہوچاہے میت کی نمازوروزہ کی اجرت ہی ہواوراسکے اوراہل وعیال کے سالانہ خرچ سے زائدہوتواسکاخمس یعنی پانچواں حصہ نکالے گا .

(٣٤٣) بیٹی کوباپ کی طرف سے ملنے والاجہیزجسے وہ اپنے گھرلے جاتی ہے اگراسکاکچھ حصہ آخرسال تک استعمال میں نہ آیاہوتو
اس پرخمس واجب ہوگا .

(٣٤٤) اگرکوئی شخص کسب کے بغیرکوئی مال حاصل کرے مثال کے طورپرہدیہ ،انعام ،وصیت  ،عام ہویاخاص ،نذریاوقف کے ذریعہ ملنے والامال اگروہ اس کے سالانہ خرچ سے زائدہوتوبنابراحتیاط واجب اسکاخمس نکالے گا .

(٣٤٥) مہراورایسے رشتہ دارسے ملنے والی میراث جس کے بارے میں یہ معلوم نہ ہوکہ وہ رشتہ دارہے یانہیں اگراس کے سالانہ خرچ سے زائدہوتوبنابراحتیاط واجب اسکاخمس نکالاجائیگا .

(٣٤٦) اگرکوئی شخص کاروبارکے نفع کوکفایت شعاری کی بناپرتھوڑاخرچ کرے اگروہ اس کے سالانہ خرچ سے بچ رہے تواسکاخمس نکالے گااسی طرح اگرکوئی اپنی آمدنی میں سے سال بھرمیں اپنی شان سے زیادہ خرچ کرے تواسے اس خرچ شدہ زائدمقدارکاخمس اداکرناہوگا .

(٣٤٧) فقیرکوخمس،زکوة یامستحبی صدقہ کی بناپرجومال حاصل ہوتاہے اگروہ اس کے سالانہ خرچ سے زائد ہواوروہ شخص اس مال کی وجہ سے فقیرنہ رہ  گیاہوتواسکاخمس نکالناواجب ہے .

(٣٤٨) دوران سال جب بھی کوئی منفعت حاصل ہواسی وقت اسکاخمس نکالاجاسکتاہے نیزقمری سال کے آخرتک خمس نکالنے میں تاخیرکرنابھی جائز ہے زراعت وغیرہ کاخمس نکالنے کیلئے کہ جوشمسی سال کے مطابق انجام پاتی ہے خمس کے سال کوشمسی سال قراردینےمیں کوئی حرج نہیں ہے .

(٣٤٩) تاجراورکاروباری جیسے افرادجوخمس نکالنے کیلئے اپناسال مقررکرتے ہیں اگران میں سے کسی کونفع حاصل ہواوروہ دوران سال مرجائے تواسی منفعت سے مرنے کے وقت تک کے اخراجات نکال کربقیہ کاخمس نکالاجائے گا  .

(٣٥٠) نفع حاصل کرنے کیلئے کئے جانے والے اخراجات جیسے دلالی اورباربرداری کوسالانہ خرچ میں شمارکرسکتاہے .

(٣٥١) کاروبارکے منافع میں سے جوکچھ سال بھرمیں اپنی خوراک وپوشاک میں یامکان وسامان کی خریداری یابیٹی کے جہیز، شادی اورزیارت وغیرہ کیلئے خرچ کرتاہے اگروہ اس کی شان سے زیادہ نہ ہواوراس سلسلے میں اس نے کوئی زیادروی بھی نہ کی ہوتو اس میں خمس نہیں ہے .

(٣٥٢) جوشخص اپنے ضروریات زندگی کوجیسے مکان یاگھریلوسامان اور بیٹی  کاجہیز ایک دم سے فراہم نہ کرسکتاہوبلکہ چندسال کے اندرتدریجی طورپرحاصل کرتاہے تواسکاخمس نہیں نکالے گا مثال کے طورپرایک سال زمین خریدکرے اوردوسرے سال تعمیرمکان کے کچھ وسائل اگرچہ اس صورت میں زمین یاوسائل تعمیرکچھ مدت تک استفادہ کے بغیرپڑے رہیں پھربھی ان پرخمس نہیں ہے حتی اگرضروری اشیاء کی خریداری کی غرض سے جونقدرقم جمع کی ہواوراس سے ان تمام اشیاء کوایک ہی وقت میں خریدناممکن نہ ہو بلکہ تھوڑی مدت میں مثلادوتین سال کے اندرانہیں خریدناممکن ہواورعرف عام میں ان اشیاء کااسے محتاج سمجھاجارہاہواورروپیہ پیسہ جمع کرنابھی ان اشیاء کی خریداری کی غرض سے ہوتوپھربھی اس میں خمس نہیں ہے لیکن اگرایک لمبی مدت گزارنے کے بعدمثلابیس سال گزرجانے کے بعدجمع پونجی سے ان کی خریداری کرے کہ عرفایہ نہ کہاجائے کہ یہ شخص اس وقت ان چیزوں کاضرورت مند ہے تواس صورت میں جمع شدہ رقم پرایک سال کاعرصہ گزرجانے کے بعدخمس واجب ہوگا .

(٣٥٣) انسان جومال نذرا ورکفارہ میں خرچ کرے وہ اس کے سالانہ اخراجات میں شمارہوگانیزوہ مال بھی جوکسی شخص کوھبہ یاتحفہ کے عنوان سے دیاہوبشرطیکہ اس کی شان سے زیادہ نہ ہوسالانہ خرچ میں شمارہوگا .

(٣٥٤) اگرکوئی شخص کفن ،یمنی چادراورقبرکوپچھلے سال کے دوران حاصل ہونے والی منفعت سے خریدکرے توجونہی ان پرایک سال گزرجائے گاان کاخمس نکالے گااوراگرایک باران کاخمس نکال دیاجائے گاتوبعدوالے سالوں میں خمس نہیں نکالاجائیگا .

(٣٥٥) اگرآغازسال میں اپنے اخراجات کیلئے کچھ قرض لے اورسال تمام ہونے سے پہلے اسے کوئی نفع حاصل ہوتواپنے قرض کواس نفع سے اداکرسکتاہے .

(٣٥٦) اگرسال بھر میں کوئی منفعت حاصل نہ ہواوراپنے اخرجات کیلئے کچھ قرض لے تواپناقرض بعدوالے سالوں کی منفعت سے اداکرسکتاہے .

(٣٥٧) انسان سال گزرجانے کے بعدجب تک اپنے مال کاخمس نہیں نکالے گااس میں تصرف نہیں کرسکتاچاہے خمس نکالنے کا ارادہ بھی رکھتاہو .

(٣٥٨) جن امور میں مکان کاکرایہ کم کرنے کیلئے قرض دینے کی شرط لگائی گئی ہواگراس رقم کواداکئے بغیرمکان کی ضرورت پوری نہیں ہوتی ہوتواس قرض والی رقم پرخمس نہیں ہوگاچاہے وہ رقم کئی سال تک مالک مکان کے پاس رہ  جائے .

(٣٥٩) جوشخص خمس کامقروض ہواگروہ حاکم شرع سے مصا لحہ کرلے تواپنے تمام مال میں تصرف کرسکتاہے  اورمصالحہ کرلینے کےبعداس سے جوکچھ نفع حاصل ہوگاوہ اسکااپنامال شمارہوگا .

تازہ ترین مضامین

پروفائلز