مرکز

در حال بارگیری...

جس کی پہچان نماز ہے

حضرت آیت اللہ العظمی بہجت نے فرمایابندگی کی بنیاد محبت ہے خدا نے قرآن میں خود فرمایا ہے
یُحِبُّھُمْ وَ یُحِبُّونَہُ ۱
خدا ان سے محبت رکھتا ہے اور وہ خدا سے محبت رکھتے ہیں
ایک خاص تحریر جو آیت اللہ بہجت کی چوتھی برسی پر مرکز تنظیم و نشر آثار آیت اللہ بہجت نے پیش کی

جس کی پہچان نماز ہے

وہ نوے سال کی عمر میں بھی تینوں نمازیں مسجد فاطمیہ میں با جماعت پڑہتے تھے آخر عمر میں صرف تین چار سال ضعف پیری کے سبب صبح اور مغربین کی نمازوں میں کبھی کبھی مسجد میں نہیں آتے تھے ۔
پیر مرد  سفید ریش  کوتاہ قد دلنشین اور مہربان چہرہ قبا کے اوپر کمر کے ساتھ ایک شال باندھے ہوئے جلو ہ گر ہوتے تھے۔

وہ روزانہ گھر سے مسجد تک پیدل نماز پڑھانے کے لیے آتے تھے  اس چھوٹے سے فاصلے میں دوست قدم بہ قدم ان کے ہمراہ ہو تے اور کبھی ان سے سوال بھی کر لیتے تھے جس کا وہ فورا جواب دیتے تھے ہماری کوشش ہو تی تھی کہ ہم مسلسل ان کا چہرہ تکتے رہیں اور ان کے لیے کسی زحمت کا باعث نہیں بنتے تھے عمر کے آخری سالوں میں رش کے سبب ان کے لیے گاڑی مہیا کی گئی جس پر سوار ہو کر مسجد تشریف لاتے تھے نوجوان ان کی نماز میں بڑے شوق سے شریک ہوتے تھے اور وہ نماز ہی کے ذریعے ان کی تربیت فرماتے تھے نماز ان کی زندگی کا محور تھی وہ خود فرماتے تھے کہ میں اپنے استاد شیخ احمد سعیدفومنی کی نماز میں شریک ہوتا تھا اورعجیب مسرت انگیز حالات کا مشاہدہ کر کے لطف اٹھاتا تھا  ایسی شخصیت کہ جس کی زندگی کا آغاز نماز سے ہو اس کا انجام خدا جانے کتنا اعلی وارفع ہو گا۔

سن ۱۹۹۳م میں  بحیثیت مرجع تقلید ان کا تعارف ہوا۔ ابتداء وہ اپنا رسالہ شائع کرنے اور اپنی رای کا اظہار کرنے سے مانع رہے اور فرماتے رہے کہ دوسرے مراجع کا انتخاب ہونے دو اگر پھر ضرورت محسوس کی گئی اور کسی نے اصرار کیا تو یہ سب کچھ ہو جائے گا

وہ فومن شہر میں پیدا ہوئے والد نے ان کا نام محمد تقی رکھا اور نام کی توجیہ ان کے والد محمود کربلائی نے یہ بیان کی کہ نوجوانی میں ،میں ایک خطرناک بیماری کا شکار ہو کر زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا تھا کہ عالم رویا میں  کسی کو کہتے ہوئے سنا اسے چھوڑ دو یہ محمد تقی کے والد ہیں ۱۶ مہینے کے تھے کہ والدہ کا انتقال ہو گیا آپ کی بڑی بہن نے تربیت کے لیے اپنی مہربان آغوش میں لے لیاان کے پہلے استاد اپنے والد محمود کربلائی تھے جو مرثیہ گو تھے۔

منقبت اہلبیت (علیہم السلام) میں اشعار لکھا کرتے تھے انہیں کی تربیت میں محمد تقی نے بھی مرثیہ گوئی سیکھی اور اپنا دل محبت اہلبیت (علیہم السلام) کی نظر کر دیا  مکتب میں پہنچے ملا کو کبی نے انہیں قرآن کی تعلیم دی پھر حوزہ علمیہ میں داخل ہو کرادبیات عرب اور فارسی ادبیات جیسے بوستان ،گلستان ،کلیلہ  اور دمنہ پراستاد سعیدی سے عبورحاصل کیا پتہ چلتاہے کہ ان کی علمی کوشش نماز کو سمجھنے کے لئے تھی استادکی پاکیزگی وطہارت اورکیفیت حضور نمازنے شاگرد کے دل میں ایک طوفان برپا  کر دیا ۷ سال حوزہ علمیہ فومن میں رہے اوران کا شماراعلی سطح کے شاگردوں میں رہا۔

سن ۱۹۲۹م میں جبکہ ابھی ١٤ سال کے بھی نہیں ہوئے تھے وطن سے ہجرت کاارادہ کیا ہجرت بھی حوزہ علمیہ کربلاونجف کے قصد سے تھی والد مہربان نے اپنے ایک مالداردوست کے ساتھ انہیں اپنے بھائی کے پاس کربلا بھیج دیاوہاں پہنچ کرایک سال اپنے چچاکے مکان پرمقیم رہے سال کے بعدکسب علم کی غرض سے مدرسہ میں داخل ہوگئے۔

خودفرماتے ہیں کہ میں ایک سال سے زیادہ عرصہ کربلامعلی میں رہا وہیں مکلف ہوا اورمدرسہ بادکوبہ ای میں چلاگیا میرے والدوہاں تشریف لائے توشیخ جعفر حائری نے والد کی موجودگی میں میری دستاربندی کی چارسال کاعرصہ کربلا میں گذارنے کے بعد وہ عازم نجف اشرف ہوئے سطحیات کا اہم حصہ کربلا میں پڑھ چکے تھے اور اس کی تکمیل نجف اشرف میں شیخ مرتضی طالقانی، سید ہادی میلانی ،سید ابو القاسم خوئی اور شیخ علی محمد بروجردی اور سید محمد شاہرودی سے کی۔

سطحیات سے فارغ ہونے کے بعد اصول کا درس خارج آقا ضیا ء عراقی اور مرزا نائینی سے حاصل کیا اور فقہ کا درس خارج شیخ محمد کاظم شیرازی سے پڑھا آیت اللہ غروی کمپانی کا درس ایک ایسا مقام تھا کہ جہاں پہنچ کر انہوں نے وہ سب کچھ حاصل کر لیا جو چاہتے تھے وہ آیت اللہ سید ابو الحسن اصفہانی کے درس سے بھی بہرہ مند ہوئے۔

انہوں نے فلسفہ آیت اللہ سید حسین باد کوبہ ای سے پڑھا  آیت اللہ بہجت نجف اشرف میں تدریس بھی کرتے رہے اورحوزہ کے سطح عالی کے دروس اور منظومہ کو بھی پڑھاتے تھے انہیں ان کے استاد آیت اللہ قاضی نے فاضل گیلانی کا لقب عطا کیا تھااسی استادنے ان کے اخلاق اور سیر و سلوک کو کمال تک پہنچایا ان کے والد محمود کربلائی کو فومن میں خط لکھا گیاکہ آپ کے بیٹے بہجت تصوف کی طرف مائل ہو گئے آپ بہت جلد سنیں گے کہ انہوں نے پڑھنے پڑھانے کو خیر باد کہہ دیا ہے والد نے انہیں خط لکھ کر مستحبات پر عمل کرنے سے روک دیا وہ اپنے والد کا خط اپنے استاد آقا قاضی کے پاس لائے تو استاد نے انہیں خط کے ساتھ ان کے مرجع کے پاس بھیج دیا جنہوں نے خط پڑھنے کے بعد فرمایا کہ تم اپنے والد کی ہدایت پر پورا پورا عمل کرواور وہ اس پر پوری طرح عمل پیرا رہے۔

ابھی ان کی عمر ٣٠سال نہیں ہوئی تھی کہ وہ عراق سے ایران پلٹ آئے سن ۱۹۵۵م میں اپنے وطن فومن پہنچ گئے اور اپنی بڑی بہن کی خواہش کے مطابق جو ان کے لیے ماں کا مقام رکھتی تھیں رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئے چند مہینے فومن میں رہنے کے بعد پھر عازم نجف اشرف ہوئے راستے میں حوزہ علمیہ قم سے آشنائی حاصل کرنے کے لیے کچھ دن وہاں مقیم رہے ابھی قم میں تھے کہ انہیں اپنے والد گرامی محمود کربلائی کی رحلت کی خبر ملی بیٹا ابھی باپ کی سوگواری میں تھا کہ انہیں دنوں نجف اشرف سے آقا سید ابو الحسن اصفہانی کی رحلت کی خبر ملی اور کچھ ہی دنوں بعد آیت اللہ قاضی کے انتقال فرما جانے کی اطلاع ملی یہ سوانح ارتحال ان کی قم مقدس میں مستقل اقامت اختیار کرنے کا سبب بن گئے قم مقدس میں ان کی اہم مصروفیات تدریس وتحقیق سے وابستہ تھی۔

اس دوران وہ آیت اللہ حجت کوہ کمرہ ا ی اور آیت اللہ  بروجردی کے درس میں بھی شریک ہوتے رہےسن ۱۹۹۳م میں  بحیثیت مرجع تقلید ان کا تعارف ہوا۔ ابتداء وہ اپنا رسالہ شائع کرنے اور اپنی رای کا اظہار کرنے سے مانع رہے اور فرماتے رہے کہ دوسرے مراجع کا انتخاب ہونے دو اگر پھر ضرورت محسوس کی گئی اور کسی نے اصرار کیا تو یہ سب کچھ ہو جائے گا ان کا رسالہ سات مرتبہ ان کے نام کے بغیر شائع ہوتا رہا وہ اپنا نام ظاہر کرنے پر راضی نہیں تھے جب شدید اصرار کیا گیا تو انہوں نے رسالہ پر اپنا نام ظاہر کرنے کی اجازت دی اور بغیر کسی القاب کے اپنے دستخطوں کی صورت میں صرف :العبد محمد تقی بہجت  لکھنے کی ہدایت کی۔

سن ۲۰۰۹م کے ماہ مئی میں ان کے انتظار وصال کے لمحات ختم ہو گئے

سن ۱۹۹۶م سے آخر عمر تک ان کی نماز اور درس مسجد فاطمیہ میں رہاصبح فقہ کا درس  خارج دیتے تھے اور عصر کے وقت اصول کا درس خارج ہوتا تھا ان کے شاگرد ان کے ہاں علاوہ درس کے دوسرے لطیف نکات حاصل کرنے کی غرض سے شامل ہوتے تھے وہ اپنے کو مخفی رکھنے والے تھے اپنے اسرار کو محفوظ رکھتے تھے اور خاموش طبع تھےکبھی کبھی حالت درس میں سکوت اختیار کر لیتے تھے اورپھر سکوت توڑ کر وہیں سے سلسلہ کلام جوڑ تے تھے جو سکوت سے پہلے تھا اور بعض اوقات ایسا پر لطف نکتہ بیان کرتے تھے کہ جنہیں سننے والے بہت غنیمت خیال کرتے تھے۔

ہر جمعہ مسجد میں مجلس عزا حضرت امام حسین (علیه السلام) کا انعقاد فرماتے تھے اس میں خود شریک ہوتے تھے اور خواہش کرتے تھے کہ اس ہفتہ وار پرو گرام میں ناغہ نہ ہونے پائے گرمیوں کے موسم میں مشہد مقدس تشریف لے جاتے تھے وہاں بھی مجلس عزا کے اس ہفتگی پروگرام میں فرق نہ آتا تھا۔

سن ۲۰۰۹م کے ماہ مئی میں ان کے انتظار وصال کے لمحات ختم ہو گئے اور عمر بھر جس محبوب کی دوری کے داغ کے سبب نماز میں نوحہ کناں رہے اس کے ساتھ واصل بحق ہو گئے  خود چلے گئے اور اپنے پیچھے ایک دنیا کو سوگوار چھوڑ گئے ان کی رحلت نے ثابت کر دیا کہ اگر کسی کا دنیا میں رہنا اور جانا خدا کے لئے ہو تو وہ اس دنیا میں کس درجہ اثرات چھوڑ کر رخصت ہوتا ہے۔

 

  • ۱. ما ئدہ: ۵۴.

نیا تبصرہ شامل کریں

سوالات اور تبصرے ای میل کے ذریعے بھیج info@bahjat.ir کرنے کی ضرورت ہے کے جواب میں.

تازہ ترین مضامین

پروفائلز