مرکز

در حال بارگیری...
توضیح المسائل

گمشدہ مال حاصل ہونے کے احکام

(٥٢١) انسان کوجب کہیں کوئی مال مل جاتاہے تواگراس میں کوئی ایسی علامت موجودنہ ہو جس سے اس کے مالک تک رسائی ہوسکے اوروہ مال حیوان بھی نہ ہو اوراسکی قیمت ایک درہم یعنی ۱۲/۶ نخود سکہ دار چاندی سے کم نہ ہو تواس کے مالک کی طرف سے صدقہ دے سکتا ہے یاپھراسے حاکم شرع کودیدے ۔

(٥٢٢) جوچیزانسان نے پائی ہے اگراس میں ایسی علامت موجودہوجس کے ذریعہ اس کے مالک کو پہچاناجاسکتاہو اوراٹھانے کے وقت  اس چیزکی قیمت ایک درہم سے کم نہ ہو تواسکااسی وقت اعلان کرناواجب ہے یعنی ایک سال تک لوگوں کے اجتماع کی جگہ اسکاذکرکرے یاوہاں اسکااشتہارنصب کرے ۔

(٥٢٣) اگرکوئی ایسامال مل جائے جسمیں کوئی نشانی موجودہو اوراس کی قیمت ایک درہم سے کم ہو اوراسکامالک بھی معلوم نہ ہو تواپنی ملکیت کے قصدسے اسے اٹھاسکتاہے لیکن اگر بعدمیں اسکا مالک مل جائے اوروہ مطالبہ بھی کرے اوراسے واپس کرنے میں کوئی  دشواری نہ ہوتو بنابراحتیاط واجب اسکا عین مال اسے واپس دیدے اوراگرتلف ہوگیاہو توبنابراظہر اس کے مثل یاقیمت کا ضامن نہیں ہے ۔

(٥٣١) اگرکسی کام کوانجام دینے کی نذرکرے توبنابراقرب ضروری ہے کہ وہ کام یاواجب ہو یامستحب پس اگر کسی مباح کام کوانجام دینے کی نذرکرے تویہ صحیح نہیں ہے اوراگر کسی فعل کے ترک کرنے کی نذرکرے توضروری ہے کہ وہ فعل حرام  یامکروہ ہو ۔

(٥٣٢) انسان جس چیز کی نذرکرے اسے بجالانے کی قدرت وتوانائی بھی رکھتاہوبنابریں اگرکسی ایسے کام کی نذرکرے جسے انجام دینے پرعقلایاعادة قادرنہ ہو توصحیح نہیں ہے ۔

(٥٣٣) شوہرکی اجازت کے بغیر عورت کانذرکرنا بنابراحتیاط واجب وضعا صحیح ہے یعنی نذر منعقدہوجائے گی ۔

(٥٣٤) اگرکوئی شخص اپنے اختیارسے نذرپرعمل نہ کرے تواسے کفارہ اداکرناپڑے گا یعنی ایک غلام آزادکرے یاساٹھ مسکینوں کوکھانا کھلائے یادوماہ پئے در پئے روزہ رکھے ۔

(٥٣٥) اگرکسی ایک امام علیہ السلام یاامام زادہ کے حرم کیلئے کوئی چیز نذرکی جائے تواسے حرم کی تعمیر،چراغانی اورحرم کے فرش وغیرہ جیسے امور میں صرف کیاجائے گا ۔

(٥٣٦) اگر کسی چیز کوآئمہ علیہم السلام میں سے کسی ایک امام علیہ السلام کیلئے نذرکرے چنانچہ اگراس نے کسی معین مصرف کاقصد کیاہوتواسی مصرف میں صرف کرناہوگا اوراگرکسی معین مصرف کاقصدنہ کیاہو تواسے فقیروں ،زائروں پرصرف کیاجائیگا یااس سے مساجد وغیرہ بنواکراسکا ثواب اسی امام علیہ السلام کی خدمت میں ہدیہ کرے گا اوریہی مسئلہ اسکا بھی ہے اگرکوئی چیز کسی امام زادے کیلئے نذرکرے ۔

(٥٤٦) انسان کیلئے مستحب ہے کہ وہ اپنے مال میں سے اپنے اقرباء کیلئے وصیت کرے چاہے وہ افراداس سے میراث کیوں نہ پاتے ہوں اورمیراث نہ پانے والے رشتہ داروں کیلئے کوئی وصیت نہ کرنامکروہ ہے ۔

نیا تبصرہ شامل کریں

سوالات اور تبصرے ای میل کے ذریعے بھیج info@bahjat.ir کرنے کی ضرورت ہے کے جواب میں.

تازہ ترین مضامین

پروفائلز